آج کل کئی پیسٹی سائیڈ کمپنیاں سوشل میڈیا پر اشتہار دے رہی ہیں اور کاشتکار وں کو کنگی سے بچاؤ کے لئے مختلف پھپھوندی کش زہریں گندم پر سپرے کرنے کی ترغیب دے رہی ہیں ۔ بہت سے کاشتکار بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ کیوں نہ احتیاطاً بیماری آنے سے پہلے ہی سپرے کر دیا جائے تاکہ فصل محفوظ رہے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے:
کہ کیا واقعی کنگی کے حملے سے پہلے سپرے کر دینا چاہئے؟
موجودہ موسم میں گندم کی فصل پر کنگی کے حملے کے امکانات کس قدر ہیں؟
اور کیسے پتا چلے گا کہ گندم کی فصل پر واقعی کنگی کا حملہ ہو چکا ہے؟
اس مضمون میں ہم اسی اہم مسئلے پر تفصیل سے بات کریں گے تاکہ آپ درست فیصلہ کر سکیں اور اپنی محنت اور سرمایہ دونوں کو محفوظ رکھ سکیں۔
کاشتکار دوستو!
سب سے پہلے جان لئتے ہیں کہ کنگی ہے کیا؟
گندم میں عموماً دو قسم کی کنگی دیکھنے میں آتی ہے:
زرد کنگی ((Yellow Rust
اسے اسٹرائپ رسٹ (Stripe Rust) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پتے پر بالکل اسی طرح نظر آتی ہے جیسے کپڑے پر لگی ہوئی سلائی نظر آتی ہے۔
پتے کے اوپر پیلے رنگ کا پاؤڈر سا ایک سیدھی لکیر میں نظر آئے تو سمجھ لیں کہ یہ زرد کنگی ہے۔

لیکن اگر پتہ ویسے ہی پیلا ہو اور پاؤڈر انگلیوں کو نہ لگے پر پھر یہ زرد گنگی نہیں ہو گی بلکہ کورے کا اثر یا غذائی اجزاء کی کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
بھوری کنگی (Leaf Rust)
بھوری کنگی میں پتے کے اوپر بھورے رنگ کے بکھرے ہوئے بے ترتیب دھبے نظر آتے ہیں۔ اس کا زنگ نما پاؤڈر پتے پر لائن کی صورت میں نہیں بلکہ دھبوں کی شکل میں ہوتا ہے ۔
اور وہی بات کہ پاؤڈر انگلیوں کو نہ لگے تو پھر یہ بھوری گنگی نہیں ہو گی بلکہ کورے کا اثر یا غذائی اجزاء کی کمی بیشی ہوسکتی ہے۔
کنگی کے حملے سے پیداوار کا کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے تناظر میں بھوری کنگی، زرد کنگی کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے اور پیداوار کو زیادہ متاثر کر سکتی ہے۔
بھوری کنگی سے پیداوار کا نقصان دو باتوں پر منحصر ہے:
بیماری پودے کے کس حصے پر ہے؟
کھیت کے کتنے فی صد حصے پر بیماری پھیلی ہوئی ہے؟
اگر بھوری کنگی گندم کے جھنڈے والے پتے (اوپر والے آخری پتے) پر حملہ کرے تو یہ خطرے کی بات ہے۔
اگر جھنڈے والا پتا متاثر ہو اور بیماری پورے کھیت میں پھیلی ہو تو 30 سے 35 فیصد تک پیداوار کم ہو سکتی ہے۔
اگر جھنڈے والا پتا متاثر ہو لیکن بیماری صرف 50 فیصد پودوں تک ہو تو تقریباً 15 سے 17 فیصد تک نقصان ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر بیماری صرف نچلے پتوں پر ہو اور جھنڈے والا پتا محفوظ ہو تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اور عام طور پر سپرے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
واضح رہے کہ گندم کے جھنڈے والا پتا تقریبا 70 فیصد خوراک بناتا ہے۔ اس لئے جھنڈے والے پتے کا متاثر ہونا خطرے کی علامت ہے۔
یہ بیماری آتی کہاں سے ہے؟
یہ بیماری ہوا کے ذریعے پھیلتی ہے۔
اس بیماری کے ذرات ہوا میں ہی موجود ہوتے ہیں۔ جب یہ ذرات گندم کی کسی ایسی ورائٹی کے پتوں پر گرتے ہیں جس کی قوت مدافعت کم ہو تو بیماری شروع ہو جاتی ہے۔
لیکن یاد رکھیں:
کنگی کی بیماری کبھی بھی راتوں رات نہیں آتی۔
بیماری کو حملہ آور ہونے کے لئے کم از کم دو ہفتے تک مطلوبہ درجہ حرارت اور نمی درکار ہوتی ہے۔ درجہ حرارت اور نمی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ گندم کی ورائٹی جو آپ نے کاشت کی ہے وہ بھی کمزور قوتِ مدافعت والی ہو۔
اگر آپ نے قوت مدافعت رکھنے والی گندم کی ورائٹی کاشت کی ہوئی ہے تو پھر کنگی آسانی سے حملہ نہیں کر سکتی۔
کون سا موسم کس کنگی کے حملے کے لئے سازگار ہے؟
زرد کنگی
اگر درجہ حرارت 7 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہو
ہوا میں نمی 85 فیصد سے زائد ہو
تو ان حالات میں گندم پر کنگی کا حملہ ہو سکتا ہے۔
زرد کنگی کا حملہ زیادہ تر پنجاب کے شمالی اور وسظی اضلاع جیسا کہ مری، اٹک، چکوال، گجرات، سیالکوٹ، لاہور، فیصل آباد، قصور وغیرہ میں دیکھنے میں آتا ہے۔
دسمبر کے آخری ہفتے سے فروری کے پہلے ہفتے تک زرد کنگی کے حملے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
بھوری کنگی
اگر درجہ حرارت 15 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو
فضا میں 80 فیصد سے زائد نمی موجود ہو
تو یہ بیماری حملہ آور ہوسکتی ہے۔
اس بیماری کا حملہ زیادہ تر پنجاب کے جنوبی اور وسطی اضلاع جیسا کہ ملتان، خانیوال، بہاولپور، لودھراں، ساہیوال، اور سرگودھا وغیرہ کے علاقوں میں ہوتا ہے۔
بھوری کنگی فروری سے اپریل کے مہینوں میں زیادہ حملی آوار ہوتی ہے۔
اکثر کاشتکار انٹرنیٹ پر درجہ حرارت دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ درجہ حرارت 30 ڈگری کے آس پاس ہے، اس لیے کنگی کے حملے کا خطرہ نہیں ہے۔
یاد رکھیں:
ویب سائٹ پر نظر آنے والا درجہ حرارت اور آپ کے کھیت کا اصل درجہ حرارت مختلف ہو سکتا ہے۔ کھیت میں نمی زیادہ ہوتی ہے، اس لئے وہاں درجہ حرارت کم ہو سکتا ہے اور بھوری کنگی حملہ کر سکتی ہے۔
لہذا اگر ویب سائٹ پر درجہ حرارت 30 ڈگری بھی ہو تو بھی آپ کو چوکنا رہنا ہے اور کھیت کا باقاعدہ معائنہ کرنا ہے۔
خاص طور پر بارش اور سازگاز درجہ حرارت دونوں اقسام کی کنگی کے پھیلاؤ میں ایندھن کا کام کرتے ہیں۔
گندم کی کنگی کا مؤثر حل
اس کا سب سے موثر حل تو یہی ہے کہ آپ وہی ورائٹیاں کاشت کریں جن میں کنگی کے خلاف قوت مدافعت ہو۔ محکمہ زراعت جن ورائٹیوں کی سفارش کرتا ہے ان سب میں کنگی وغیرہ کے خلاف مدافعت موجود ہوتی ہے۔۔
جن ورائٹیوں میں کنگی کے خلاف قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے محکمہ اُنہیں کاشت کے لیے نامنظور کر دیتا ہے۔
یاد رکھیں!
قوت مدافعت رکھنے والے بیج کا انتخاب = آدھی بیماری ختم
لیکن اگر بیماری حملہ کر ہی دے تو کیا کریں؟
اگر آپ کے کھیت میں کنگی کا حملہ ہو چکا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔
سب سے پہلے آپ نے موسم کی پیشگوئی کو دیکھنا ہے کہ آنے والے ایک سے دو ہفتوں میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جا رہا ہے یا نہیں۔
اگر درجہ حرارت 30 ڈگری سے اوپر جانے والا ہو تو سپرے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
جیسے ہی گرمی بڑھے گی اور درجہ حرارت 30 ڈگری سے اوپر جائے گا، کنگی کا حملہ خود ہی کم ہونا شروع ہو جائے گا اور بیماری رک جائے گی۔
لیکن اگر درجہ حرارت 30 ڈگری سے نیچے رہنے کی پیشگوئی ہو اور ساتھ نمی بھی زیادہ ہو، تو پھر ضرورت کے مطابق سپرے کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کنگی عام طور پر فصل میں ٹکڑیوں کی صورت میں حملہ کرتی ہے لہذا جہاں بیماری نظر آئے، صرف اسی حصے پر سپرے کریں۔
ساری فصل پر سپرے کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے خرچ بھی بڑھے گا اور گندم چونکہ کھانے والی چیز ہے لہذا اس پر بلا ضرورت زہر پاشی کرنا درست نہیں ہے۔
کون سی زہر مؤثر ہے؟
بیماری آنے سے پہلے سپرے کرنی چاہیے یا نہیں؟
ہماری رائے یہ ہے کہ عام حالات میں بیماری آنے سے پہلے کسی بھی قسم کی سپرے کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
لیکن اگر آپ ہر صورت احتیاطاً سپرے کرنا چاہتے ہیں تو پھر سلفر کا سپرے کر سکتے ہیں۔
سلفر کا سپرے کرنے کے دو فائدے ہیں:
سلفر خود ایک پھپھوندی کش عنصر ہے، اس لیے اس کا سپرے کنگی کے حملے کے امکانات کو کم کر دیتا ہے۔ سلفر چونکہ زہر نہیں ہے اس لئے گندم پر اس کا سپرے انسانی صحت کے لئے نقصان دہ نہیں ہے۔
دوسرا سلفر کا سپرے کرنے سے گندم کو غذائیت بھی ملتی ہے، جس سے پیداوار میں بہتری آ سکتی ہے۔
اس مقصد کے لئے سوات ایگرو کیمیکلز کا سلفر " نٹ شیفل سٹلن، "یا ایف ایم سی کا " کیوملس "تجویز کیا جاتا ہے۔ آپ اس کے علاوہ بھی کسی زرعی ماہر کے مشورے سے پراڈکٹ استعمال کر سکتے ہیں۔
بیماری آنے کے بعد کونسی سپرے کرنی چاہئے؟
شدید حملے کی صورت میں سے ٹیبو کونازول + ٹرائی فلوکسی سٹروبن 75WG % بحساب 65 گرام فی ایکڑ
یا
پروپی کونازول 25EC %بحساب 200 ملی لیٹر فی ایکڑ
یا
ایزوکسی سٹروبن + ڈائی فینکونازول 325SC بحساب 200 ملی لیٹر فی ایکڑ استعمال کریں۔
دلچسپ بات
دلچسپ بات یہ ہے کہ کنگی صرف ہرے پتوں پر ہی زندہ رہ سکتی ہے۔
اگر متاثرہ پتا توڑ دیا جائے تو جیسے جیسے پتا سوکھے گا، ویسے ویسے کنگی بھی مر جائے گی۔
تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
ماہر ِ توسیع زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
تکنیکی معاونت
|
محمد اویس |
محمد حماد تنویر |
ڈاکٹر محمد اقبال |
|
سینئر سائنسدان ، شعبہ گندم |
سینئر سائنسدان ، شعبہ گندم |
سینئر سائنسدان (پلانٹ پتھالوجسٹ) |
|
ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد |
ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد |
ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد |
Comments
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں تبصرہ کرنے والے پہلے بنیں!