🇵🇰
تلاش کریں۔
کھلی کانگیاری: گندم کی بیماری اور اس کا حل

کھلی کانگیاری: گندم کی بیماری اور اس کا حل

یہ تصویر پنجاب میں گندم کی فصل کا جائزہ لیتے ہوئے  بنائی گئی ہے۔ آپ کو تصویر میں کالے  رنگ کا ایک سٹہ نظر آ رہا ہے۔ دراصل یہ ایک اہم بیماری  ہے جسے  loose smut  یعنی کھلی کانگیاری لکھا جاتا ہے۔

1961 میں اس بیماری نے امریکہ کی ایک ریاست میں 40 فیصد گندم کو تباہ کر دیا تھا ۔     عام حالات میں یہ بیماری 20 سے 30 فیصد تک پیداوار میں کمی کر سکتی ہے۔

سیدھا حساب یہ ہے  کہ اگر  100 سٹوں میں سے 10 سٹوں پر یہ بیماری ہوگی تو پیداوار بھی 10 فیصد یعنی  5من فی ایکڑ کے حساب سے کم ہو جائے گی۔

کانگیاری  گندم کی ایک ایسی بیماری  ہے جو شیر کی طرح گھات لگا کر حملہ کرتی ہے۔  اور گندم  کے سر یعنی سٹے کو گنجا کر دیتی ہے ۔ اس لئے اسے گندم کا گنچا پن بھی کہا جاسکتا ہے۔

اس بیماری کی کے ذرات  بیج کے اند ر ہی موجود ہوتے ہیں۔جہاں وہ 20 سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ 

 

جب بیماری کے اثر ات رکھنے والے بیج کو کھیت میں ڈالا جاتا ہے  تو گندم کے ساتھ ساتھ کانگیاری کی جڑ بھی نشوونما  پانے لگتی ہے اور تنے کے  ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ پروان چڑھتی ہے۔ اور جیسے ہی سٹا نکلتا ہے یہ اس پر حملہ کر دیتی ہے۔

حملہ کر کے یہ سٹے کے اندر بننے والے تمام دانوں کو کالے رنگ کے پاؤڈر میں تبدیل کر دیتی ہے۔ سٹے پر بننے والا یہ پاؤڈر  لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ذرات پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ذرہ  بیماری پھیلانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ ذرات ہوا کے  دوش پر گندم کے صحت مند سٹوں پر گرتے ہیں۔ جہاں گرتے ہی  یہ سرنگ بنا کر بیج کے اندر گھس جاتے ہیں ۔اور  اگلے سال بیج کے بوئے جانے کا انتظار کرتے ہیں۔ جیسے ہی اگلے سال اس بیج کو بویا جاتا ہے تو  بیج کی جرمنیشن  یعنی اگاؤ کے ساتھ ہی کانگیاری کے ذرات میں بھی جان آجاتی ہے اور یہ بھی تنے کے ساتھ ساتھ نشوونما پانے لگتے ہیں اور سٹا نکلنے کا انتظار کرتےہیں تاکہ اس پر حملہ کیا جا سکے۔

بیج کے اندرونی حصے میں اس  بیماری کی جڑ کو ختم کرنا سائنسدانوں کے لئے ایک بڑا چیلنج  رہا ہو گا۔ کیونکہ   تب  جو زہریں  دستیاب تھیں وہ بیج  یا پودے میں جذب نہیں ہو سکتی تھیں لہذا   بیج کے اندر بیماری کی جڑ کو زہر لگانے کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ غالبا یہی وہ مسئلہ تھا جس پر قابو پانے کے لئے سائنسدانوں نے ایک ایسی زہر بنانے کا سوچا  ہو گا جو بیج میں جذب ہو کر اس کے مرکز تک پہنچ جائے اور وہاں موجود بیماری کی جڑ کو تلف کر دے۔

اس طرح کے زہر کو سسٹیمک زہر یعنی پودے یابیج میں جذب ہونے والی زہر  کہتے ہیں ۔آج زراعت میں استعمال ہونےوالی   40 فیصد زہریں یہی سسٹیمک  زہریں ہی ہیں۔

جذب ہونے والی زہروں  کی ایجاد سے پہلے کھلی کانگیاری پر گرم پانی سے   قابو کیا جاتا تھا۔

بیج کو 52   ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم   کئے گئے پانی میں  10 منٹ تک ڈبو دیا جاتا تھا تاکہ  گرمائش کی وجہ سے  بیماری کی جڑ ختم ہو جائے۔ اور پھر فورا 20 سے 25 ڈگری سینٹی گریڈ والے پانی میں 5 منٹ تک ٹھنڈا کیا جاتا تھا ۔ لیکن یہ طریقہ  بہت رسکی تھا ۔

اگر پانی کم گرم ہو تا تو بیماری کی کا خاتمہ نہ ہو پاتا اور اگر  پانی زیادہ گرم ہو جاتا تو بیج کی جرمینیشن  یعنی اگاؤ متاثر ہوتا ۔ آج بھی  یہ طریقہ  وہ کاشت کار استعمال کرتے ہیں جو آرگینگ  کھیتی کرتے ہیں۔

ایک اور نقطہ کہ کیا بونے سے پہلے پتا چل سکتا ہے کہ بیج میں کانگیاری کی جڑ ہے یا نہیں؟

ماہرین کے مطابق ایسا ہونا انتہائی مشکل   بلکہ ناممکن سا ہے۔ کیونکہ  کانگیاری  کی جڑ رکھنے والا بیج  بظاہر صحت مند نظر آتا ہے اور اس کا اگاؤ بھی بہترین ہو تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بندرگاہوں پر کانگیاری  سے متاثرہ گندم کو پہچان کر روکنا بہت مشکل ہے اور یہ بیماری ایک ملک سے دوسرے ملک با آسانی جا سکتی ہے۔

بیماری کی پہچان کیسے کریں؟

یہ بیماری  نہ تو پودے کی جڑوں میں دلچسپی رکھتی ہے، نہ  ہی تنے یا پتوں پر حملہ کرتی ہے۔ بلکہ اس کا پسندیدہ شکار گندم  کا سٹہ ہے اور یہ صرف سٹوں پر ہی حملہ آور ہوتی ہے۔ جب گندم کا سٹا  نکلتے ہی آپ کو کالا  سا نظر آئے۔ اور غور سے دیکھنے پر دانوں کی جگہ  کالے رنگ کا پاؤڈر  سا نظر آئے ۔ تو سمجھ لیںآپ کی فصل پر کانگیاری حملہ آور ہے   اور یہی پاؤڈڑ اس بیماری کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

حل کیا ہے؟

ابھی تک کوئی طریقہ ایسا سامنے نہیں آیا جو سٹے پر بننے والے پاؤڈر یعنی کانگیاری کے ذرات کا خاتمہ کر سکے یا پھر اس  پاؤڈڑ کو  کالے سٹے سے دوسرے صحت مند سٹوں پر منتقل ہوتے ہوئے تلف کر سکے۔

  1. اس کا حل یہی ہے کہ  اس بات کی تسلی ہو کہ جس کھیت سے بیج حاصل کیا گیا ہے وہاں کانگیاری  سے حملہ شدہ کوئی سٹہ نہیں تھا۔  اور اگر تھا بھی تو اس کو احتیاط سے تلف کر دیا گیا ہے۔

لہذا اگر آپ کو کھیت میں کالے رنگ کا سٹا نظر آئے تو سٹے پر پلاسٹک شاپر اس طرح  احتیاط سے چڑھائیں کہ نہ تو پاؤڈر گرے اور نہ  ہی اڑے۔  سٹے  کو شاپر میں کور  کر کے قینچی سے کاٹ لیں۔ اور کاٹے گئے سٹے کو یا تو جلا دیں یا کم از کم دو فٹ زمین کی  دو فٹ گہرائی میں دبا دیں۔ کبھی بھی ایسے سٹے کو کھیت میں نہ پھینکیں، ورنہ کالے ذرات سینکڑوں بالیوں  میں داخل ہو گر اگلے سال بیماری پھیلائیں گے۔

  1.  دوسرا یہ کہ  ایسی ورائٹی کا انتخاب کیا جائے جو کانگیاری کے خلاف لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔  گندم کی  کون سی ورائٹیوں میں کنگی کے خلاف قوت مدافعت ہے؟ اس پر کسی اگلی ویڈیو میں بات  کریں گے۔

  2.  اور آخری حل وہی کہ فنجی سائڈ یعنی پھپھوندی کش زہر بیج کو لگائی جائے۔ جذب ہونے والی زہریں بیج کے منہ سے  داخل ہو کر اس کے  پیٹ  تک پہنچ جاتی ہیں اور وہاں موجود کانگیاری کی جڑ کا خاتمہ کردیتی ہیں۔

 

 تحریر

ڈاکٹر شوکت علی

پروفیسر (توسیعِ زراعت)

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد

تبصرہ کریں


Comments

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں تبصرہ کرنے والے پہلے بنیں!