🇵🇰
تلاش کریں۔
رعی زمین میں ایک عام بیماری: گندم کا زنگ

رعی زمین میں ایک عام بیماری: گندم کا زنگ

زرعی معیشت میں فصلوں کی صحت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر فصلیں بیماریوں کا شکار ہو جائیں تو نہ صرف پیداوار کم ہو جاتی ہے بلکہ کسان کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ گندم پاکستان کی ایک اہم غذائی فصل ہے، مگر یہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو سکتی ہے، جن میں گندم کا زنگ ایک نہایت خطرناک بیماری ہے۔

گندم کا زنگ کیا ہے؟
گندم کا زنگ ایک فنگس (پھپھوندی) سے پھیلنے والی بیماری ہے جو گندم کے پودے کے پتوں، تنوں اور بعض اوقات بالیوں پر حملہ کرتی ہے۔ اس بیماری میں پودے پر زنگ کی طرح سرخ، بھورے یا پیلے رنگ کے دھبے نمودار ہو جاتے ہیں، اسی لیے اسے زنگ کہا جاتا ہے۔

بیماری کی اقسام
گندم کے زنگ کی تین مشہور اقسام ہیں:

  1. پیلا زنگ – جو عموماً ٹھنڈے موسم میں پھیلتا ہے۔

  2. بھورا زنگ – جو پتوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔

  3. کالا زنگ – جو تنے کو نقصان پہنچا کر فصل کو گرنے کا سبب بنتا ہے۔

بیماری کے اسباب
یہ بیماری زیادہ تر مرطوب موسم، زیادہ نمی، اور مسلسل بارشوں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ بیج کا استعمال اور ہوا کے ذریعے فنگس کے جراثیم ایک کھیت سے دوسرے کھیت تک منتقل ہو جاتے ہیں۔

 

نقصانات
گندم کا زنگ پودے کی غذائی صلاحیت کو کم کر دیتا ہے، جس سے دانے مکمل طور پر نشوونما نہیں پا سکتے۔ نتیجتاً پیداوار میں واضح کمی آتی ہے، اور بعض صورتوں میں پوری فصل تباہ ہو سکتی ہے۔

احتیاطی تدابیر اور کنٹرول

  • صحت مند اور بیماری سے پاک بیج کا استعمال

  • زنگ سے مزاحم اقسام کی کاشت

  • کھیت کا باقاعدہ معائنہ

  • ضرورت پڑنے پر مناسب فنگس کش ادویات کا استعمال

  • فصلوں کی تبدیلی (Crop Rotation)

نتیجہ
گندم کا زنگ ایک سنگین زرعی بیماری ہے، مگر بروقت احتیاطی تدابیر اور جدید زرعی طریقوں کے ذریعے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ کسانوں کو چاہیے کہ وہ زرعی ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ فصل محفوظ رہے اور ملک کی غذائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

 

 

تبصرہ کریں


Comments

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں تبصرہ کرنے والے پہلے بنیں!