آج 8 مارچ 2026 کا دن ہے اور پنجاب میں درجہ حرارت دن کا درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ یہ صورتحال گندم کی فصل کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بہت سے کاشتکار اس بات سے واقف نہیں ہوتے کہ مارچ کے مہینے میں اچانک بڑھنے والا درجہ حرارت گندم کی پیداوار کو نمایاں طور پر متاثر کر تاہے۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر درجہ حرارت 30 ڈگری سے اوپر چلا جائے تو پیداوار میں 15 سے 20 من فی ایکڑ تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر بروقت اور درست اقدامات کیے جائیں تو اس نقصان سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
گندم کے لیے آئیڈیل درجہ حرارت
گندم کے سٹے پر بور آنے سے لے کر دانہ بننے تک کے مرحلے تک مناسب درجہ حرارت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔


اس دوران دن کا درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ اور رات کا درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ آئیڈیل مانا جاتا ہے۔
زیادہ درجہ حرارت سے نقصان کیوں ہوتا ہے؟
گندم بنیادی طور پر ٹھنڈے موسم کی فصل ہے۔ جب درجہ حرارت زیادہ ہو جاتا ہے تو پودے کا خوراک بنانے کا عمل (فوٹوسنتھیسز) متاثر ہوتا ہے۔ یہی خوراک بعد میں نشاستے میں تبدیل ہو کر دانے کی بھرائی کرتی ہے۔ جب خوراک کی مقدار کم ہو جائے تو دانہ مکمل طور پر نہیں بھر پاتا اور دانہ پچکا ہوا رہ جاتا ہے، جس سے پیداوار کم ہو جاتی ہے۔
گرمی کے اثرات سے بچنے کے طریقے
1۔ ہلکی آبپاشی کریں
پانی گرمی کے اثرات کو کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ جب پودے کو پانی میسر ہوتا ہے تو وہ اپنے پتوں کے ذریعے پانی خارج کر کے خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انسان کو پسینہ آ کر ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔
اگر مارچ میں اچانک گرمی کی لہر آئے تو فوراً ہلکی آبپاشی کریں۔ اس سے گندم کے کھیت کا درجہ حرارت تقریباً 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک کم ہو سکتا ہے، جو فصل کے لیے بہت بڑا ریلیف ثابت ہوتا ہے۔
2۔ فولیئر (پتوں پر) سپرے کریں
زیادہ درجہ حرارت کے اثرات کم کرنے کے لیے پوٹاشیم نائٹریٹ کا سپرے نہایت فائدہ مند ہے۔
محلول بنانے کا طریقہ:
100 لیٹر پانی میں 2 کلوگرام پوٹاشیم نائٹریٹ حل کریں۔
اگر پوٹاشیم نائٹریٹ دستیاب نہ ہو تو 2 کلوگرام یوریا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس محلول کو 20 لیٹر والی 5 ٹینکیوں کی صورت میں فی ایکڑ سپرے کریں۔
پہلا سپرے فوراً کریں اور 10 دن بعد دوبارہ سپرے کریں۔
سپرے ہمیشہ شام کے وقت کریں۔ صبح یا دوپہر کے وقت سپرے کرنے سے پتے پر پڑے ہوئے محلول کا پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے اور پیچھے رہ جانے والی کھاد سے پتے کے جلنے کا خدشہ ہوتا ہے۔
3۔ گرمی برداشت کرنے والی ورائٹیوں کا انتخاب
آئندہ سال کے لیے کاشتکاروں کو ایسی گندم کی اقسام کا انتخاب کرنا چاہیے جو زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔ اس وقت پنجاب میں زیادہ رقبے پر کاشت ہونے والی اقسام میں:
اکبر
دلکش
عروج
سبحانی
شامل ہیں، جبکہ فلک اور سویرا جیسی نئی اقسام بھی کاشت کے لیے منظور ہو چکی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر موسم گرم ہو جائے تو عروج کی کارکردگی بہت بہتر رہتی ہے۔ گرم موسم میں:
اکبر کی پیداوار تقریباً 45 من فی ایکڑ
جبکہ عروج کی پیداوار 55 من فی ایکڑ تک پہنچ سکتی ہے۔
البتہ اگر موسم ٹھنڈا رہے تو اکبر کی پیداوار 60 من فی ایکڑ تک جا سکتی ہے۔
اس لیے بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ کاشتکار اپنے کھیت میں اکبر اور عروج دونوں اقسام کا کچھ نہ کچھ رقبہ ضرور کاشت کریں تاکہ موسم کی تبدیلی کی صورت میں ہر قسم کے موسم کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔
نتیجہ
مارچ میں بڑھتا ہوا درجہ حرارت گندم کی فصل کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے، لیکن اگر کاشتکار بروقت آبپاشی، مناسب فولیئر سپرے اور موزوں ورائٹی کا انتخاب کریں تو وہ اس نقصان کو بڑی حد تک کم کر سکتے ہیں اور اچھی پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔
اگر کاشتکار ان ہدایات پر عمل کریں تو امید ہے کہ وہ گرمی کے باوجود گندم کی بہتر پیداوار حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
تحریر
ڈاکٹر شوکت علی
پروفیسر (توسیعِ زراعت)
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد
تکنیکی معاونت
محمد اویس
سینئر سائنسدان ، شعبہ گندم
ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد
محمد حماد تنویر
سینئر سائنسدان ، شعبہ گندم
ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد
Comments
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں تبصرہ کرنے والے پہلے بنیں!